بنو عباس کے دور کی اہم اصلاحات اور کارنامے
خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد عربوں کی قائم کردہ دو عظیم ترین سلطنتوں میں سے دوسری سلطنت خلافت عباسیہ کہلاتی ہے۔ جس کا قیام 750ء (132ھ) میں عمل میں آیا اور 1258ء (656ھ) میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ خلافت ایک تحریک کے ذریعے قائم ہوئی جو بنو امیہ کے خلاف تھی۔ تحریک نے ایک عرصے تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر بنو امیہ کو شکست دینے کے بعد بر سر اقتدار آگئی۔ عباسیوں کی حکومت بھی امویوں کی طرح شخصی اور موروثی تھی اور ولی عہدی کا بھی وہی طریقۂ کار تھا جو بنو امیہ نے اختیار کیا ہوا تھا۔ خاندان عباسیہ نے دار الحکومت دمشق سے بغداد منتقل کیا اور دو صدیوں تک مکمل طور پر عروج حاصل کیے رکھا۔ زوال کے آغاز کے بعد مملکت کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی جن میں ایران میں مقامی امرا نے اقتدار حاصل کیا اور المغرب اور افریقیہ اغالبہ اور فاطمیوں کے زیر اثر آگئے۔
عہد عباسی میں علوم و فنون کی ترقی
عہدِ عباسی میں مسلمانوں نے اپنے علم و فن کو توسیکھا ہی،ساتھ دنیا کے دوسرے اہم علوم وفنون میں بھی مہارت حاصل کی۔یونانی،سریانی،سنسکرت اور فارسی کتابوں کے عربی میں بہ کثرت ترجمے کیے گئے۔اس دور میں تصنیف وتالیف کی دو بڑی وجہ تھی، اول یہ کہ علماءکرام اور مصنفین و محققین کو عباسی حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ان کو اتنا مال و دولت سے نوازاجاتا تھا کہ انہیں ذریعہ معاش کی طرف سے بے فکری رہتی تھی۔ترجمہ کرنے والوں کو ترجمہ کی ہوئی کتاب کے وزن کے برابر سونا یا چاندی دے کر حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ دوم یہ کہ مسلمان اس وقت کاغذ بنانے کے فن سے واقف ہو گئے تھے۔یہ فن انہوں نے ان چینی قیدیوں سے سیکھاتھاجوبنی امیہ کے دور میں سمرقند کی فتح کے دوران ۴۰۷ھ میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کتابیں جھلیوں، کھالوں اور پتیوں وغیرہ پر لکھی جاتی تھیں،جس میں خرچ زیادہ آتا تھا اور وہ محفوظ بھی نہیں رہتی تھیں۔عباسی دور میں یوں تو تقریباً تمام ہی خلفاءنے علوم و فنون کی سرپرستی کی،لیکن ابوجعفر منصور، ہارون رشید اور مامون رشید نے اس پر خصوصی توجہ دی۔ خلیفہ منصور نے بغداد شہر بسایا جو علوم و فنون اور تہذیب و تمدن میں دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔یہاں دور دراز سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ اس کے علاوہ دوسرے بڑے علوم و فنون کے مراکز بصرہ، کوفہ ، فسطاط، قیروان،رے،نیشاپور،مرو اور بخارا تھے۔
عباسی دور میں جن علوم و فنون کا ارتقا ہوا اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱-دینی علوم
قرآن کریم: اس پر عہدِ نبوی، عہدِخلفائے راشدین اوراموی دور میں کام مکمل ہو چکا تھاتو اس میں کچھ کرنے کو باقی نہ تھا۔البتہ اس دورمیں قرآنی آیات کو مختلف طرح سے، دلکش انداز میں نقش و نگار کے ساتھ لکھے جانے کے فن کو فروغ دیا گیا۔
علمِ قرا ت:عہدِ عباسی میں اس فن پر خصوصی توجہ دی گئی اورقرّاءسبعہ(امام عبد اللہ بن کثیر عامربن یزید دمشقی (م۶۳۷ئ)،امام عبد اللہ بن کثیر مکّی(م۸۳۷ئ)، امام عاصم بن ابی النجود کوفی(م۴۴۷ء)، امام ابو عمرو بن العلاءبصری(م۱۷۷ء)، امام حمزہ بن حبیب زیات کوفی(م۴۷۷ء)، امام نافع بن ابی نعیم مدنی(۶۸۷ء)، امام علی بن حمزہ کسائی کوفی(م۵۰۸ء)۔(ان میں سے چار مو خر الذکر نے عباسی دور پایا تھا) نے اس میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں،پھر ان کے شاگردوں نے اس موضوع پر مختلف کتابیں لکھیں،جس میں کتاب النھایة (محمد بن الجزری م۹۲۴۱ء) بہت مشہور ہوئی۔دوسرے مصنفین میں”حافظ ذہبی(م۷۴۳۱ء)، محمد بن الجزری(م۹۲۴۱ء) ابوعمرو عثمان الدانی(م۲۵۰۱ء)،خلف بن ہشام، ابن کامل، ابو بکر طاہر،ابوبکرالنقاش ،ابوبکر بن الحسن، “وغیرہ مشہور ہوئے۔
علمِ تجوید: قرآن کریم کو اس کے صحیح مخرج اور خوش کن آواز میں پڑھنا تجوید کہلاتا ہے۔ عباسی دور میں اس پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس پر کتابیں بھی لکھی گئیں۔ اس فن پر سب سے پہلی کتاب موسیٰ بن عبیداللہ خاقانی بغدادی (م۷۳۹ء) نے لکھی ۔
علمِ تفسیر: ”یہ ایک ایسا علم ہے جس کی مدد سے قرآن کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھا جاتا ہے اور اس کے احکام و مسائل اور اسرار و حکم سے بحث کی جاتی ہے“۔
عباسی دور میں اس پر خصوصی توجہ دی گئی اور کثیر تعداد میں تفسیریں لکھی گئیں۔تمام مفسرین نے اپنے اپنے علم و فن کے لحاظ سے قرآن کی تفسیر کی ،مثلاً تفسیرِ ماثورہ، تفسیر بالرای اور تفسیر الفقہاء وغیرہ۔ان میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں:
تفیسرِ طبری(محمد بن جریر، م۳۲۹ئ)،تفسیر امام ثعلبی (م۶۳۰ھ)، تفسیر سفیان بن عینیہ(م۴۱۸)، تفسیر عبد الرزاق (م۶۲۸)، تفسیر شعبہ بن حجاج (م۷۷۷)، تفسیر ابن مردویہ (م۹۱۰)، تفسیر مفاتیح الغیب (امام رازی م ۱۲۱) وغیرہ۔
علم ِحدیث:حدیث کے لغوی معنیٰ بات،کلام،بیان اور اظہار کے آتے ہیں۔اصطلاح میں نبیِ کریم ﷺ کے اقوال،افعال،تقریرات اور صفات کو حدیث کہتے ہیں۔
عہدِ عباسی میں احادیث کی جمع و تدوین، تہذیب و تصحیح کا عظیم ترین کام ہوا۔ صحاحِ ستہ یعنی صحیح بخاری (ابوعبد اللہ محمد بن اسماعیل ،م ۰۷۸ھ)، صحیح مسلم (مسلم بن حجاج قشیری ،م۵۷۸ھ)، سنن ابی داو د (سلیمان بن اشعث،م۸۸۸ھ)، جامع ترمذی (ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ، م ۲۹۸ھ)، سنن نسائی (احمد بن شعیب،م۶۱۹ھ) سنن ابن ماجہ (محمد بن یزید، م۸۸۸ھ) اسی دور میں لکھی گئی۔ اس کے علاوہ احادیث کی مشہور کتابوں میں سنن دارقطنی (ابوالحسن علی بن عمر،م۵۹۹ھ)صحیح ابن خزیمہ (محمد بن اسحاق،م۳۲۹ھ)،مستدرک حاکم(امام حاکم ابوعبداللہ،م ۵۱۰ھ)، مسند خوارزمی (امام ابو بکر احمد بن محمد
برقانی، م۴۳۰ھ) وغیرہ کا نام آتا ہے۔
علمِ فقہ: ”وہ علم ہے جس میں تفصیلی دلائل کے ذریعہ احکامِ شرعیہ کو سمجھا جاتا ہے ، بحث کی جاتی ہے اور قوانین اخذ کیے جاتے ہیں “۔
علم فقہ کی باضابطہ تدوین ترویج بھی عباسی دور کا کارنامہ ہے ۔ فقہ کے چاروں مدارس یعنی فقہ حنفی (امام ابو حنیفہؒ، ۹۹۶-۷۶۷ھ)،فقہ مالکی (امام مالکؒ، ۵۱۷-۵۹۷ھ)،فقہ شافعی (امام شافعی،ؒ ۷۶۷-۰۳۸ھ)،فقہ حنبلی (امام احمد بن حنبلؒ ،۰۸۷-۵۵۸ھ)اسی عہد میں وجود میں آئے۔ ان کے علاوہ فقہ جعفری (امام جعفر صادق،۰۸-۸۴۱ھ) بھی اسی زمانے میں مدون ہوئی۔ فقہ حنفی کو فروغ دینے میں امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی ابویوسف (۳۱۱-۳۸۱ھ)اور امام محمد بن حسن شیبانی (۳۳۱-۹۸۱ھ) کا اہم کردار رہا۔امام محمد قانون بین الممالک کے بانی اول سمجھے جاتے تھے۔فقہ مالکی کی سب سے اہم کتاب ’مدونہ‘ہے ، جس کو اسد بن فرات(م۳۱۲ھ) اورامام محمد بن سحنون(م،۰۷۸ھ) نے مرتب کی تھی۔ امام شافعی کی مشہور کتاب ’کتاب الام‘ اور ’الرسالہ‘ ہے اور امام احمد بن حنبل نے ’مسند‘کے نام سے حدیث کی ایک بڑی ضخیم کتاب لکھی ۔ فقہ کی دوسری اہم کتابوں میں ”مختصر القدوری (احمد بن محمد قدروی ،م۷۳۰ھ)، کتاب الہدایہ(امام علی بن علی ابی بکر فرغانی،م۷۹۱ھ)، شرح الجامع الکبیر(امام بلخی،م۹۱۲ء) ، الحاوی(ابوالحسن علی الماوردی،م۸۵۰ھ)،احیاءعلوم الدین کتاب الوجیز ،الوسیط ،البسیط ،اختصار المختصر(امام غزالی ،م۱۱۱ھ) ، ریاض الصالحین(امام نووی،م۷۷۲ھ)، المغنی فی شرح الخرقی(امام ابن قدامہ ،م۳۲۲ھ)“ وغیرہ بہت مشہور ہوئے۔
سیرت اور تاریخ :مسلمانوں نے پہلے سیرت النبی پر لکھنا شروع کیا ، اس سے سیرت نگاری کو فروغ ملا۔سیرت اور مغازی دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ،تو ساتھ ہی ساتھ مغازی کو بھی بڑھاوا ملا ۔پھر یہیں سے تاریخ نگاری کا آغاز ہوا۔ عباسی دورمیں مورخین نے تاریخ کا دائرہ بہت وسیع کر دیا تھا۔اس میں خلفاءکی تاریخیں، فتوحات، شکست، وزراء، امراء،شرفاء،ادباء،شعراءاور لوگوں کے پیشوں وغیرہ کو بھی شامل کیا۔ ان پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں ۔ ان میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں۔
سب سے پہلے ابن جریر طبری (۹۳۸-۳۲۹ھ) نے چودہ جلدوں پر مشتمل تاریخ پر کتاب لکھی ، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اپنے زمانے تک کہ تین سو برس کے حالات تفصیل سے بیان کیے ہیں۔
٭السیرة النبویة( ابن ہشام، م۴۲۸ئ) اس میں انھوں نے نبی کریم کی حالات زندگی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
٭طبقات (ابن سعد،م۵۴۸ھ) ، اس میں نبی ،صحابہ کرام اور تابعین کے حالات لکھے ۔
٭ فتوح البلدان(بلاذری ،م۲۹۸ھ) نے لکھی ،جس میں حضرت عمرؓ کے زمانے کی فتوحات ، اندلس، وسط اےشےا اور سندھ وغیرہ کی فتوحات کا حال ذکر کیاہے۔
٭ مروج الذہب (مسعودی م۶۵۹ھ) نے جو کہ ایک بڑے جغرافیہ داں اور سیاح تھے،انہوں نے یہ کتاب لکھی جس سے ہمارے سامنے چوتھی صدی ہجری کے حالات مکمل طورپر واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔
ان کے علاوہ سیرت اور تاریخ پر ”کتاب المغازی ( موسیٰ بن عقبہ)،انساب الاشراف (بلاذری) ، تاریخ الرسل والملوک (طبری ،)، کتاب المعارف (ابن قطیبہ دینوری)، کتاب الاوراق (الصولی)، تجارب الامم وتعاقب الہمم (ابن مسکویہ)،تاریخ دمشق (ابن عساکر،)، وفیات الاعیان (ابن خلکان) ، ارشادالالباب الی المعرفت الادباء(یاقوت حموی)، فتوح مصرو اخبارہ(ابن عبدالحکم مصری)، کتاب العبر و دیوان المبتداو الخبر فی ایام العرب و العجم و البربر(ابن خلدون) ،اخبار ا لمغفّلین، کتاب الاذکیاء(ابن الجوزی)، اخبار الاجواد، البخلاءاور قتلی القرآن“ وغیرہ اہم کتابیں ہیں۔
علم الکلام :اسلامی حکومت کے وسیع ہونے اور غیر عرب قوموں کے اسلام لانے کی وجہ سے نئے تہذیب و تمدن ان کا آغاز ہوا ،ساتھ ہی عبرانی ویونانی اور دوسری زبانوںمیں موجود کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا،جس سے مسلمانوں کے اندر غیراسلامی خیالات پھیلنا شروع ہوئے ۔ اسی سے علم الکلام کا آغاز ہوا۔
علم الکلام کی بنیاد امام ابوالحسن الاشعری (۳۷۸-۶۳۹ھ)نے ڈالی ۔ ان کی کتاب ’الابانہ اور مقالات الاسلامین‘ بہت مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ اس موضوع پردوسری مشہور کتابوں میں ”کشف الاسرار ،دقائق الکلام اور کتاب التمہید (قاضی ابوبکرباقلانی)،کتاب الشامل،کتاب الارشاد(عبداللہ بن یوسف ابوالمعالی،م۵۸۰ء)،تہافة الفلاسفہ،احیاءالعلوم الدین، معیارالعلوم،الجام العوام(امام غزالی،م۱۱۱ھ) کتاب التوحید ،کتاب الجدل، کتاب المقالات ( ابومنصور محمدبن محمد،م۵۴۹ھ)، فی السیرة الفاضلہ ،کتاب الشکوک والمناقصات(محمد بن زکریا رازی)، تہذیب الاخلاق ،الفوز الاکبر، الفوز الاصغر ( ابن مسکویہ)“وغیرہ کا نام آتا ہے۔
علمِ فلسفہ:فلسفہ کا آغازعہدِ عباسی میں مامون رشید کے دور سے قیصرِ روم کے ذریعہ بھیجی گئی یونانی کتابوں کے عربی ترجموں سے ہوتا ہے ۔ارسطو اور افلاطون کے زیادہ ترجمے ہوئے ۔
فلسفہ میں یعقوب کندی،م ۳۷۸ء(کتاب الفلسفة الاولیٰ فی مادون الطبیعیات و التوحید،جواہرِ خمسہ اور سلسلہ علل)اور ابو نصر الفارابی، (سیاسة المدنیة) نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کندی کو ’پہلا عرب فلسفی‘ اور فارابی کو’ معلم ثانی ‘ کا خطاب دیا گیا۔ ان کے علاوہ دوسرے اہم فلسفیوں میں ”ابن سینا(کتاب الشفا،کتاب الاشارات و التنبیھات)، امام غزالی(مقاصد الفلاسفہ، تہافة الفلاسفہ،احیاءعلوم الدین)“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔
۲- عصری علوم :
عباسی دور میں دینی علوم کے علاوہ اور دوسرے علوم مثلاً طب ،ریاضی، فلکیات ،علم کیمیا، اور مختلف سائنسی علوم نے بھی ترقی کی۔یہ علوم عربوں نے پہلے یونانی ،سریانی، سنسکرت اور دیگرزبانوں سے سیکھا اورپھر ان کو عربی زبان میں منتقل کیا ۔ جس کے لیے باقاعدہ ہارون الرشید نے بیت الحکمت قائم کیا، جہاں ترجمہ نگاری کا کام ہوتاتھا ۔
مشہور مترجمین میں ”حنین بن اسحاق، قسطا بن لوقا، عیسیٰ بن یحییٰ ، یوحنا بن ماسویہ، حجاج بن مطر،یحییٰ بن بطریق، عبدالرحمان بن علی،سلام بن الابرش اور ثابت بن قرة“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔
علم طب :قرآن و حدیث میں طب اور صحت کے اصولوں کے تعلق سے جگہ جگہ رہ نمائی کی گئی ہے۔چنانچہ خلفائے اسلام نے ہر دور میں اس پر شروع ہی سے توجہ دی۔مسلمانوں میں یونانی طب کا رواج حکمائے یونان کی ان کتابوں سے ہوا جن کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔اس کے بعد انہوں نے اس فن کو مزید ترقی دی اور اس میں اضافہ بھی کیا۔
عباسی دور کے مسلم اطباءنے چیچک ،خسرہ اور دوسری وبائی بیماریوں پر خصوصی توجہ دی اور ان کے ٹیکے ایجاد کیے۔اس کے علاوہ ”فرسٹ ایڈ کا طریقہ،پارے کا لیپ،ٹانکوں میں حیوانی آنتوں کا استعمال،زخموں کو داغنے، پتھری کو آپریشن کے ذریعے نکا لنے، آنکھ اور دانت کی سرجری، پٹی باندھنے کا طریقہ،ہڈیوں کو جوڑنے اور ان پر پلاسٹر چڑھانے کا طریقہ،آپریشن میں جدید آلات کا استعمال،دورانِ خون کا نظریہ،مرکّب ادویہ میں شکر کا استعمال اور آپریشن کرنے سے پہلے سُن کرنے کے طریقے“ سے دنیا کو روشناس کرایا۔
عباسی دور میں خلفاءنے شفا خانے بھی کثیر تعداد میں تعمیر کرائے، جن کو ’بیمارستان‘ کہا جاتا تھا۔سب سے پہلا شفا خانہ ولید بن عبدالملک (۵۰۷-۵۱۷ء)نے دمشق میں بنوایا۔اس کے علاوہ دوسرے مشہورشفا خانوں میں ”بیمارستانِ برامکہ، بیمارستانِ حربیہ،بیمارستانِ السیدہ، بیمارستانِ المقتدری، بیمارستانِ ابن الفرات اور بیمارستانِ عضدی“ کا نام آتا ہے۔کل تعداد تقریباً۰۶ تھی۔ان شفا خانوں کی نگرانی کے لیے ایک خلیفہ کی طرف سے ایک ناظم مقرر کیا جاتا تھا۔سنان بن ثابت اس عہدے پر بہت مشہور ہوئے۔آپ نے ہی اطباءکا امتحان لے کر ڈگری دینے کا طریقہ نکالا تھا۔
اس دور میں علم طب کے تین بڑے مراکز تھے۔
(۱)اسکندریہ (۲)جندی سابور(۳) حران۔
مشہور اطباء میں ”یعقوب کندی،م۱۷۸ء(طبقات الاطبائ)،محمد بن زکریا رازی،م۲۳۹ھ( کتاب الحاوی، المنصوری ، کتب طب الفقرائ،کتاب الطب الملوکی،کتاب الجدری و الحصبة)،موفق بن علی ہروی،م۱۵۹ھ(کتاب حقائق الادویہ)، شیخ بوعلی سینا،م۷۳۰ء(کتاب القانون،کتاب القولنج ،کتاب الادویة القلبیة)، ابن نفیس،م۸۸۲ھ(الکتاب الشامل فی الطب، موجزالقانون ، کتاب المہذب فی الکحل )، ابن مسکویہ، ( کتاب الاشربة،کتاب البطیح)، علی بن عیسیٰ، ( تذکرة الکحالین)“ وغیرہ ہیں۔جنھوں نے علم طب کو یونانیوں سے بھی زیادہ ترقی دی ۔ حتی کہ یورپ نے بھی ان کی کتابوں سے استفادہ کیا اور ایک زمانے تک یہ کتابیں ان کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔
علمِ ریاضی:اس کی ترقی میں علمِ ہندسہ، علمِ نجوم اور علمِ ہیئت کا اہم کردار رہا ،کیوں کہ ان تینوں ہی میں حساب کی ضرورت پڑتی ہے ۔مسلمانوں نے اصلاً اس فن کونویں صدی عیسوی میں ترقی دی۔ اس دور میں قیصر روم سے بہت ساری یونانی کتابیں منگائی گئیں،جن میں ریاضی کی کتابیں بھی تھیں۔ ان کے عربی میں ترجمے ہوئے۔ اسی سے مسلمانوں میں علم ریاضی کا شوق پیدا ہوا۔محمد بن موسیٰ الخوارزمی کو حساب و الجبرا کا موجد اور بنو موسیٰ کو جیومیٹری کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔
عباسی دورمیں ریاضی کے میدان میں مسلمانوں کے اہم کارناموں میں”صفر کی ایجاد،اعشاریہ کا
استعمال،عددی نظام (Arabic Numerals)کا استعمال،نامعلوم مقدار کے لیے ’شئے‘ کا استعمال، دو درجی مساوات اور سہ درجی مساوات کو حل کرنے کے عمل کی دریافت،جذر اور جذر مکعب کا طریقہ، وقت کی تقسیم کا پیمانہ کی دریافت اور ٹرگنومیٹری کی بنیاد پر نقشہ مرتب کرنا“ وغیرہ ہے۔
اس دور کے مشہور ریاضی داں درج ذیل ہیں،
”ابو کامل شجاع بن اسلم، م ۶۵۹ء(کتاب الطرائف فی الحساب،المخمس و المعشّر، کتاب فی الجبر و المقابلة)،عباس بن سعےد جوہری،م۴۴۸ئ(کتاب الاشکال تفسےراقلےدس) ، ابوطیب سند بن علی، (کتاب الحساب الہندی،کتاب القواطع، کتاب الجبر والمقابلہ)، حجاج بن یوسف مطر، ( مقدمات اقلیدس)، محمد بن موسی خوارزمی، (کتاب الجبر والمقابلہ، علم الحساب)، عمرخیام، (کتاب الجبر والمقابلہ ، مکعبات )، ابوریحان البیرونی، (کتاب الہند ،کتاب الآثارالباقیة) ،احمد عبداللہ حبش حاسب، ابوالوفابوزجانی،(کتاب فی ما یحتاج الیہ الکتاب و العمال من علم الحساب)،بنو موسیٰ شاکر (کتاب حیل بنو موسیٰ)،احمد بن یوسف المصری ، ابوعبداللہ محمد بن عیسیٰ الماھانی“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔
علممِ جغرافیہ:قرآن کی متعددآیات کا تعلق ِ جغرافیہ سے ہے۔ جیسے رات دن کا تبدیل ہونا ،سورج ،چانداور ستاروں کا حرکت کرنا،سمندر،صحرا،پہاڑ اور دریا وغیرہ۔ان سے مسلمانوں میں علم ِجغرافیہ کا شعور پیدا ہوا۔ساتھ ہی مختلف فتوحات، تجارت اور سفر نے بھی اس علم کو بڑھاوا دیا۔انہوں نے اس فن کو یونان، ہند اور ایران کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کر کے حاصل کیا۔ پھر خود اس میدان میں تصنیف و تحقیق کا آغاز کیا ۔
عباسی دور میں ہی مسلم جغرافیہ دانوں نے زمین کی پیمائش کی، دنیا کا نقشہ ، بحری چارٹ، زمین کا گلوب اور ماڈل تیار کیا،زمین کا گول ہونا اور اس کا اپنے محور پر گھومنا ثابت کیا۔ طول البلد ، عرض البلد، قوس و قزح اور جوار بھاٹا کے اصولوں سے دنیا کو روشناس کرایااور اس موضوع پرکثیر تعداد میں کتابیں لکھیں۔ان میں سے مشہور درج ذیل ہیں،
صورة الارض(محمد بن موسیٰ خوارزمی،)،المسالک و الممالک(ابن خردازبہ، م۳۱۹ء،مسلم جغرافیہ کاباوا آدم)،کتاب البلدان (احمد بن اسحاق الیعقوبی،)،کتاب الخراج، صنعة الکتاب (قدامة بن جعفر الکاتب، م۲۲۹ئ) ،احسن التقاسیم فی معرفة الا قالیم (ابوعبداللہ المقدسی،)،تاریخ الہند (ابوریحان البیرونی،) اورتقویم البلدان (ابوالفدا،)وغیرہ۔
علم ِکیمیا :یہ علم یونانیوں سے مصرکے علما اور سائنس دانوں نے سیکھا ۔ پھرعباسی دور میں ان سے عربوں نے حاصل کیا۔ یونانی زیادہ تر ’اندازے اور قیاس ‘سے کام چلاتے تھے۔ لیکن مسلمانوں نے اس علم میں معروضی وحقیقی تجربات کرکے پختہ نظریات پر قائم کیا۔اس کا مقصد کم قیمتی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا تھا۔اس کے لیے مختلف طرح کے تجربات کیے جاتے تھے، جس کی وجہ سے کیمسٹری کے میدان میں دوسرے بہت سے انکشافات ہوئے۔
مشہور کیمیاداں جابر بن حیان(م۱۶۱ھ) بھی اسی دورمیں تھے ، جن کو ’کیمسٹری کا باواآدم‘ کہا جاتا ہے۔آپ نے سب سے زیادہ تجربہ پر زوردیا۔ پارہ ،دھاتوں کو پگھلانے ،بھاپ کے ذریعہ اشیاءکو معلوم کرنے اور مختلف تیزابوں کے بنانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ آپ کی مشہور کتاب کیمان المعادن اورکتاب جواہر الکبیر ہے۔دوسرے مشہور کیمیادانوں میں ”ابن وحشیہ ،ذوالنون مصری، ابوبکر رازی ،یعقوب کندی، ابوحیان توحیدی ، ابن سینا اور ابوالحسن احمد الخشلیل“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔
عباسی دور میں ہی مسلم سائنس دانوں نے ”تقطیر،تبخیر،کشید،تکلیس،تصعید،تحلیل،ترشیح کے طریقوں،مختلف طرح کے کیمیائی مرکّبات سلفاس،پوٹاشیم،نائٹرک ایسڈ،مرکری کلورائڈ، سلفر ،پارہ،سرمہ،رنگین شیشے،رنگ سازی،عطر سازی،فولاد سازی ،موم، خضاب،لوہے کی زنگ سے حفاظت ،چمڑے کی رنگائی،تجربی عمل کے لیے آلات“ وغیرہ سے دنیا کوروشناس کرایا۔اس دور میں اس فن پر لکھی گئی کتابوں میں سے چند درج ذیل ہیں،
”جوہر تین العتیقتین(الحمدانی)،فی مقالة وجوب صناعة الکیمیائ(الفارابی)،رتبة الحکیم،غایة الحکیم(مسلمہ بن احمد المجریطی)،عین الصنعة و عون الصناع(ابوالحکیم محمد بن ملک الخوارزمی الکائی،م۴۳۰۱ئ)، حقائق الاستشہاد،کتاب الانوار و المفاتیح،مفاتیح الرحمةاور انوار الحکمة(موئد الدین طغرائی،م۵۳۱۱ئ)، مفتاح دار السعادة(ابن قیم الجوزی)“ وغیرہ۔
علمِ لغت، نحو اور صرف:ان علوم کا آغاز اموی دور سے ہی شروع ہو گیا تھالیکن عباسی دور میں اس میں گراں قدر اضافے ہوئے۔ان کے اہم مراکز میں کوفہ،بصرہ،دمشق،حلب،مصر اور مرو وغیرہ کا نام آتا ہے۔ان علوم پر لکھی گئیں کتابیں درج ذیل ہیں:
”قرا تِ قرآن،کتاب النوادر،کتاب الامثال(امام ابوعمرو بن العلائ،)،کتاب العین،کتاب النقط و الشکل،کتاب العروض(امام خلیل بن احمد،)، کتاب اللغا ت،کتاب الامثال،کتاب النوادر،معانی القرآن(امام یونس حبیب،)،کتاب الصحاح(امام جوہری،)،کتاب الاشتقاق(ابن درید)، اساس اللغة(امام زمخشری)، کتاب الجامع،کتاب الاکمال(عیسیٰ بن عمر ثقفی،)،الکتاب(امام سیبویہ،) ،المفصل(ابوالقاسم محمود،)،کتاب الفیہ،کافیہ،تسہیل(امام ابو عبد اللہ محمد بن مالک،)،کتاب التصریف(امام مازنی،)، التصریف الملوکی(ابن جنی،)،کتاب لامیة الافعال منظوم(امام ابن مالک،)، کتاب الشافیة(ابن حاجب،)“ وغیرہ ہیں۔
ادب اور شاعری:عباسی عہد میں شاعری کے موضوعات غزل،قصیدہ،ہجو، مقطعات،مرثیہ اور نظمیں وغیرہ تھے۔ان کے مختلف مراکز تھے، جن میں شام،مصر،عراق،افریقہ اور ایران کو خاص مقام حاصل تھا۔شاعری کی زبان پُر تکلّف،مسجع و مرصع اور رمز و کنایہ سے مزیّن ہوا کرتی تھی ۔
ادب کے میدان میں”جاحظ، (کتاب الحیوان،کتاب البخلائ،البیان و التبین)،عبداللہ بن المقفع، (کلیلہ و دمنہ) ،ابن قتیبہ، (الشعر والشعراء)، مبرد(الکامل)ابو عبیدہ، سیبویہ، ابن رشید، باقلانی، اور قدامہ بن جعفر “ وغیرہ نے نام پیدا کیا اور ادبی دنیا کو جلا بخشی۔
No comments:
Post a Comment